پٹنہ ،30؍اگست(اایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہار کے موضوع بحث مظفر پور شیلٹر ہوم جنسی استحصال کیس کے معاملے کی جانچ کر رہے سی بی آئی کی کار کردگی پر پٹنہ کورٹ نے آج ناراضگی ظاہر کی ۔
کورٹ نے سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر کو خود اپنی نگرانی میں اس اہم معاملے کی جانچ تیزے سے کرانے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی کورٹ نے اسپیشل ڈائریکٹر کو اس بات کی بھی چھوٹ دی ہے کہ وہ چاہیں تو اس معامے کی جانچ کیلئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کر سکتے ہیں۔چیف جسٹس مکیش آر شاہ اور جسٹس ڈاکٹر روی رنجن کی بنچ نے اس سلسلے میں دائر تین الگ الگ مفاد عامہ کی عرضی کی ایک ساتھ سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایت دی ۔
عدالت نے سی بی آئی کے ایس پی جے پی مشرا کو اچانک جانچ کے دوران ہٹائے جانے پر بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی ۔ کورٹ نے مشرا کی معطلی کو لے کر سی بی آئی کے ذریعہ واضح جواب نہیں دینے پر ناراضگی جتاتے ہوئے اس معاملے کی جانچ کی پوری ذمہ داری اسپیشل ڈائریکٹر کو سونپ دی ہے ۔ ڈی آئی جی کے ذریعہ سونپی گئی آدھی ادھوری جانچ رپورٹ کو بھی کورٹ نے قابل اطمینان نہیں تسلیم کیا۔ ساتھ ہی اسپیشل ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ وہ سماعت کی اگلی تاریخ 17ستمبر کو عدالتی فرمان پر عمل کرتے ہوئے جانچ کی رفتار کی تازہ رپورٹ سیل بند لفافے میں دیں کورٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار کے فورنسک سائنس لیباریٹری کو ہدایت دی کہ سی بی آئی جو بھی سامان فارنسک جانچ کے لئے اس کے پاس بھیجے گی اس کی جانچ کر کے فوری سی بی آئی کو جانچ رپورٹ سونپ دے گی۔
کورٹ نے ریاست کے سینئر وکیل للت کشور کو کہا کہ وہ اگلی تاریخ پر اس بات کی اطلاع دیں کہ اس ریاست میں کل کتنے شیلٹر ہوم ہیں اور اس مین کتنے شیلٹر ہوم ریاستی سرکار چلاتی ہے اور کتنے کا این جی او کورٹ نے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ این جی او کے ذریعہ چلنے ولاے شیلتر ہوم کو فنڈ دینے کا عمل کیا ہے اور اس کے آڈٹ کا کیا طریقہ کار ہے ۔ کورٹ نے ہائی کورٹ کی خاتون وکیل پراکرتیکا شرما کو اس معاملے میں ایمکس کیوری تقرر کرتے ہوئے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ جا کر متاثری سے ملاقات کرے اور ان سے معلومات حاصل کر کے اگلی تاریخ رپ کورٹ کو اپنی رپورٹ سونپے۔ اس کے لئے کورٹ نے بہار ریاستی لیگل سروس اتھارتی کو ہر طرحکی سہولت پراکرتیکا کو دستیاب کرانے کو کہا ہے کہ تاکہ متاثرین سے ملنے میں انہیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہو۔